انسان کیا واقعی بندر کی نسل کا جانور ہے؟

انسان بندر کی ترقی یافته شکل ہے ۔ انسان بندر کی قسم کا ایک جانور تھا جو بعد میں ایک جینیاتی تغیر سے انسان بنا۔ ایسی باتیں ہمیں بچپن سے ہی سننے کو مل رہی ہیں۔یہ باتیں کس حد تک سچائی پر مبنی ہیں۔

 

monkey to human evolution

 آئیے اس بات کو سائنس کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق انسان اور بندر کے اجداد ایک ہی ہیں۔کیونکہ انسان اور بندر کا شجرہ ایک ہی آبائی خاندان سے ملتا ہے۔چونکہ نسلوں میں تغیرات پیدا ہوتے ہیں۔اس لیے بندر کی وہ ترقی یافتہ شکل انسان کہلائی۔
 

human evolutionary history
 دوسری وجہ جو ہمیں جنیٹکس بتاتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اور بندر کا ڈی۔این۔اے  اٹھانوے اعشاریہ آٹھ فیصد ملتا ہے۔ جبکہ ۱یک اعشاریہ دو فیصد مختلف ہے جو دو ملین کے قریب فرق رکھتا ہے۔یہ باتیں بندر کو انسان سے علیحدہ کرتی ہیں۔

human genome
جبکہ اللہ تعالی انسان کو اشرف المخلوقات بیان کرتا ہے ۔اور اس کی بناوٹ اور تشکیل تمام مخلوق سے افضل ہے۔جیسا کہ ارشاد ربانی ہے کہ "لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم"ترجمہ: کہ بے شک ہم نے انسان کو بہتر انداز سے بنایا ہے۔)القرآن(

سائنس اور قدرت دونوں کے نظریات واضح ہیں ہمارے سامنے اب ہمیں انسان کو بندر کہنے کی بجائے قدرت کی تقویم کا شاہکار کہنا چاہیے اور اشرف المخلوقات ہونے پر فخر محسوس کرنا چاہیے۔
 


Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post